اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عبری زبان کی ویب سائٹ "والا" نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد اسرائیلی حکومت ایران کے ساتھ ممکنہ نئی محاذ آرائی کی تیاری کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، کم از کم 2027ء تک خطے میں امریکی افواج کی مسلسل موجودگی خطے کے فوجی توازن میں اہم تبدیلی کا باعث بن رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے حزب اللہ کو جنگ بندی کے کسی بھی ممکنہ معاہدے میں شامل کرنے کی سفارتی کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہو سکیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
والا کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہ ان کی نظر میں تہران کے ساتھ مفاہمتی معاہدے کا معاملہ ختم ہو چکا ہے، مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مؤقف اور حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد اسرائیلی سکیورٹی اداروں نے اپنی تیاریوں کی سطح کو غیرمعمولی حد تک بڑھا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوجی حکام کا خیال ہے کہ اگر امریکہ دوبارہ ایران مخالف فوجی کارروائیوں میں سرگرم ہوتا ہے تو تہران کی جانب سے براہِ راست جوابی کارروائی، خصوصاً میزائل حملوں، کے امکانات پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ سکتے ہیں۔
والا نے اپنی رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج کی تعداد میں کوئی کمی نہیں کی گئی بلکہ وہ اپنی سابقہ ساخت کے ساتھ خطے میں بدستور موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزارتِ دفاع نے امریکی فوج اور مقامی سپلائرز کے درمیان لاجسٹک معاہدوں میں سہولت فراہم کی ہے تاکہ اسرائیل میں امریکی افواج کی موجودگی کم از کم 2027ء تک برقرار رکھی جا سکے۔
رپورٹ کے آخر میں لبنان کی صورتحال کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ والا کے مطابق، حزب اللہ کو جنگ بندی معاہدے میں شامل کرنے کے لیے ایران کے دباؤ کو اسرائیلی حکومت اور امریکہ نے مسترد کر دیا ہے، جس کے باعث اس معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
آپ کا تبصرہ